(۱۳۶۴۴) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : أَفَاضَ عُمَرُ عَشِیَّۃَ یَوْمِ عَرَفَۃَ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ ، وَقَدْ قَصُرَ رَأْسُ رَاحِلَتِہِ حَتَّی کَادَتْ تُصِیبُ وَاسِطَۃَ الرَّحْلِ ، قَالَ : وَہُوَ یُلَبِّی بِثَلاَثٍ ؛ لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ ، وَکَانَ یَسِیرُ الْعَنَقَ ، وَإِذَا مَرَّ بِحَبْلٍ مِنَ الْحِبَالِ رَفَعَ یَدَیْہِ فَکَبَّرَ۔
(١٣٦٤٤) حضرت اسو د فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عرفہ کی شام سرخ اونٹ پر سوار تھے ، اور آپ نے ان الفاظ میں تین بار تلبیہ پڑھا : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ ۔ اور حضرت عمر کافی تیز چل رہے تھے اور جب بھی کسی ٹیلہ کے پاس سے گزرتے تو ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر پڑھتے۔