(۱۳۸۵۸) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَۃَ بِلَیْلٍ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ ، وَمَنْ لاَ فَقَدْ فَاتَہُ ، فَلْیَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلْیَسْعَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَیَحْلِقُ رَأْسَہُ ، وَیُحِلُّ ، وَیَحُجُّ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَیُہْدِی ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إذَا رَجَعَ۔
(١٣٨٥٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جس شخص نے طلوع فجر سے قبل عرفہ میں قیام کرلیا اس نے حج کو پا لیا اور جو شخص نہ کرسکا اس کا حج فوت ہوگیا، اس کو چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا ومروہ کی سعی کرے اور حلق کروا کر احرام کھول دے اور آئندہ سال دوبارہ حج کرے اور قربانی کرے اگر قربانی نہ کرسکے تو تین روزے ایام حج میں اور سات روزے واپس گھر جا کر رکھے۔