hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 13862

.

ابن أبي شيبة

13862
Ibn Abi Shaybah
(۱۳۸۶۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْمُرَ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ ، وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ الْحَجُّ ؟ قَالَ : الْحَجُّ عَرَفَۃُ ، فَمَنْ جَائَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَیْلَۃَ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ ، مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَہُ یُنَادِی بہِنَّ۔ (ترمذی ۸۸۹۔ ابوداؤد ۱۹۴۴)
(١٣٨٦٣) حضرت عبد الرحمن بن یعمر سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں مقیم تھے، اور اھل مکہ میں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہے تھے، انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حج کیسے ہوتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حج وقوف عرفہ کا نام ہے، پس جو شخص طلوع فجر سے قبل جماعت والی رات میں عرفہ آیا اس کا حج مکمل ہوگیا، منیٰ میں تین دن ہیں، پس جس نے دو دنوں سے جلدی کی اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اپنا ردیف بنایا جو ان کلمات کی آواز لگا رہا تھا۔