(۱۴۲۹۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : یَا أَہْلَ مَکَّۃَ ، اتَّقُوا اللَّہَ فِی حَرَمِ اللہِ ، أَتَدْرُونَ مَنْ کَانَ سَاکِنَ ہَذَا الْبَلَدِ ؟ کَانَ بِہِ بَنُو فُلاَنٍ فَأَحَلُّوا حُرَمَہُ فَأُہْلِکُوا ، وَکَانَ بِہِ بَنُو فُلاَنٍ فَأَحَلُّوا حُرَمَہُ فَأُہْلِکُوا ، حَتَّی ذَکَرَ مَا شَائَ اللَّہُ مِنْ قَبَائِلِ الْعَرَبِ أَنْ یَذْکُرَ ، ثُمَّ قَالَ : لأَنْ أَعْمَلَ عَشْرَ خَطَایَا بِرُکْبۃِ ، أَحَبَّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَعْمَلَ ہَاہُنَا خَطِیئَۃً وَاحِدَۃً۔
(١٤٢٩١) حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اے اہل مکہ ! اللہ سے ڈرو اللہ کے حرم کے بارے میں، کیا تم جانتے ہو کہ اس شہر میں کون رہا ہے ؟ فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کردیئے گئے، اور فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کر دئیے گئے، یہاں تک کہ ذکر کیا جو اللہ پاک نے چاہا عرب کے قبائل میں سے کہ ان کو ذکر کیا جائے، پھر فرمایا کہ میں مقام رکبہ میں دس غلطیاں (گناہ) کروں یہ مجھے اس سے پسند ہے کہ میں یہاں پر (حرم) میں ایک غلطی (گناہ) کروں۔