(۱۴۵۰۷) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ جُمْہَانَ ، قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا وَمَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَبَلِ لَمْ یَحُجَّ قَطُّ ، فَأَہَلَّ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ ، فَعَابَ ذَلِکَ عَلَیْہِ أَصْحَابُنَا ، قَالَ : فَنَزَلْنَا قَرِیبًا مِنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَہُ : إِنَّ مَعَنَا رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْجَبَلِ لَمْ یَحُجَّ قَطُّ ، فَأَہَلَّ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ ، فَعَابَ ذَلِکَ عَلَیْہِ أَصْحَابُنَا ، فَمَا کَفَّارَتہُ ؟ قَالَ : کَفَّارَتُہُ أَنْ یَرْجِعَ بِأَجْرَیْنِ وَتَرْجِعُونَ بِوَاحِدٍ۔
(١٤٥٠٧) حضرت کثیر بن جمھان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے نکلے ہمارے ساتھ اہل جبل کا ایک شخص بھی تھا جس نے پہلے حج نہ کیا ہوا تھا، اس نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، ہمارے ساتھیوں نے اس کو معیوب اور ناپسند سمجھا، ہم لوگ حضرت ابن عمر کے قریب ہی ٹھہرے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے ساتھ اہل جبل کا ایک شخص ہے جس نے پہلے حج نہیں کیا ہوا اس نے حج وعمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا ہے اور اس چیز کو ہمارے اصحاب نے معیوب سمجھا ہے اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ دوگنا اجر وثواب لے کر لوٹے گا اور تم لوگ ایک اجر کے ساتھ۔