(۱۴۶۷۸) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، وَأَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : کَانَ أَبُو قَتَادَۃَ فِی نَفَرٍ مُحْرِمِینَ ، وَأَبُو قَتَادَۃَ مُحِلٌّ ، فَرَأَی أَصْحَابُہُ حِمَارًا وَحْشِیًّا ، فَلَمْ یُؤْذِنوہُ حَتَّی أَبْصَرَہُ ، فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِہِمْ سَوْطًا فَصَرَعَہُ ، فَأَکَلُوا وَحَمَلُوا مِنْہُ ، فَلَقُوا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوہُ عَنْہ ؟ فَقَالَ : ہَلْ أَشَارَ إلَیْہِ أَحَدٌ مِنْکُمْ ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : فَکُلُوا۔ (بخاری ۱۸۲۱۔ مسلم ۶۳)
(١٤٦٧٨) حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو قتادہ احرام والے لوگوں کے ساتھ تھے اور وہ خود محرم نہ تھے، ان کے ساتھیوں نے جنگلی گدھا دیکھا، ان کے ساتھیوں نے گدھے کی طرف نشاندہی نہ کی لیکن انھوں نے خود اسے دیکھ لیا۔ پس انھوں نے ان میں سے بعض کا کوڑا اٹھایا اور اس کو پچھاڑ دیا، پھر انھوں نے اس کو کھایا اور اپنے ساتھ اس کا گوشت اٹھا بھی لیا، پھر ان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اس کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر اس میں سے کھاؤ۔