(۱۴۹۱۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، قَالَ : وَرَدْنَا الْمَدِینَۃَ ، فَأَتَیْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ جَیِّدُ الثِّیَابِ ، طَیِّبُ الرِّیحِ، حَسَنُ الْوَجْہِ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : وَعَلَیْک ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَدْنُو مِنْک ؟ فَقَالَ: اُدْنُہْ ، فَدَنَا دَنْوَۃً ، فَقُلْنَا : مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ قَطُّ رَجُلاً أَحْسَنَ ثَوْبًا ، وَلاَ أَطْیَبَ رِیحًا ، وَلاَ أَحْسَنَ وَجْہًا، وَلاَ أَشَدَّ تَوْقِیرًا لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَدْنُو مِنْکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَنَا دَنْوَۃً ، فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا ، ثُمَّ قَالَ لَہُ الثَّالِثَۃَ : أَدْنُو مِنْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، حَتَّی أَلْزَقَ رُکْبَتَیْہِ بِرُکْبَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ : یَا رَسُولَ ، مَا الإِسْلاَمُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تُقِیمُ الصَّلاَۃَ ، وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَیْتَ ، وَتَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، فَقُلْنَا : مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ قَطُّ رَجُلاً ، وَاللَّہِ لَکَأَنَّہُ یُعَلِّمُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۱/۵۳)
(١٤٩١٥) حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو حضرت عبداللہ بن عمر ہمارے پاس تشریف لائے اور پھر فرمایا : ہم لوگ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عمدہ لباس، اچھی خوشبو اور خوبصورت شکل والا ایک شخص آیا اور عرض کیا : السلام علیک یا رسول اللہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب آ جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریب ہو جاؤ، پس وہ تھوڑا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگیا، ہم نے کہا (دل میں) کہ ہم نے آج کے دن کی طرح نہیں دیکھا کوئی شخص عمدہ کپڑوں میں، اور نہ ہی اچھی خوشبو اور خوبصورت چہرے والا اور نہ ہی اس سے زیادہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توقیر کرنے والا، پھر اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب آ جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں پس وہ تھوڑا سا قریب آگیا، ہم نے پھر اسی طرح سوچا، پھر اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کے قریب ہو جاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتنا قریب ہوگیا کہ اس کے گھٹنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گھٹنوں کے ساتھ مل گئے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا غسل جنابت کرنا، اس نے عرض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا، ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم لوگوں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا لیکن وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دے رہا ہے (یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو تعلیم دے رہے ہیں) ۔