(۱۴۹۱۶) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ ، أَوْ بِالْمَرْوَۃِ قَبْلَ الصَّفَا ؟ أَوْ أُصَلِّی قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَطُوفَ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّیَ ؟ أَوْ أَذْبَحَ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، أَوْ أَحْلِقَ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خُذْ ذَلِکَ مِنْ قِبَلِ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّہُ أَجْدَرُ أَنْ تُحْفَظَ ، قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ) فَالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ ، وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : (وَلاَ تَحْلِقُوا رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ) فَقَالَ : بِالذَّبْحِ قَبْلَ الْحَلْقِ ، وَقَالَ : (طَہِّرَا بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْعَاکِفِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ) ، فَالطَّوَافُ قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔
(١٤٩١٦) حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں مروہ سے پہلے صفا پر چڑھوں یا صفا سے پہلے مروہ پر ؟ طواف سے پہلے نماز ادا کروں یا نماز سے پہلے طواف کروں ؟ حلق سے پہلے قربانی کروں یا قربانی سے پہلے حلق کروں ؟ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : قرآن پاک کی ترتیب سے ان کو ادا کرو (اور حاصل کرو) بیشک وہ یاد کرنے میں آسان ہے (اور تو اس پر قادر ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } پس صفا پر مروہ سے پہلے چڑھو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے { وَ لَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ } پس حلق سے پہلے قربانی کرو او اللہ پاک کا ارشاد ہے { طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ } پس نماز سے پہلے طواف کرو۔