(۱۴۹۲۰) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَی جِبْرِیلُ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِمَا السَّلاَم ، فَرَاحَ بِہِ إِلَی مِنًی ، فَصَلَّی بِہِ الصَّلَوَاتِ جَمِیعًا ، ثُمَّ صَلَّی بِہِ الْفَجْرَ ، ثُمَّ غَدَا بِہِ إِلَی عَرَفَۃَ ، فَنَزَلَ بِہِ حَیْثُ یَنْزِلُ النَّاسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِہِ الصَّلاَتَیْنِ جَمِیعًا ، ثُمَّ أَتَی بِہِ الْمَوْقِفَ ، حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَعْجَلِ مَا یُصَلِّی الإِنْسَانُ الْمَغْرِبَ أَفَاضَ بِہِ ، فَأَتَی جَمْعًا فَصَلَّی بِہِ الصَّلاَتَیْنِ جَمِیعًا ، ثُمَّ بَاتَ بِہَا حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَعْجَلِ مَا یُصَلِّی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ الْفَجْرَ صَلَّی بِہِ ، ثُمَّ وَقَفَ حَتَّی إِذَا کَانَ کَأَبْطَأِ مَا یُصَلِّی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ الْفَجْرَ ، أَفَاضَ بِہِ إِلَی مِنًی ، فَرَمَی الْجَمْرَۃَ ، ثُمَّ ذَبَحَ وَحَلَقَ ، ثُمَّ أَفَاضَ بِہِ ، ثُمَّ أَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی بَعْدُ إِلَی نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا}۔ (ابن خزیمۃ ۲۸۰۴)
(١٤٩٢٠) حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم کے پاس تشریف لائے پھر ان کے ساتھ منیٰ آئے، پھر ان کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں، پھر فجر کی نماز ادا کی، پھر صبح کے وقت ان کے ساتھ عرفہ آئے اور اس جگہ اترے جہاں لوگ اترتے ہیں پھر ان کے ساتھ دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر ان کے ساتھ موقف پر تشریف لائے، یہاں تک کہ جب اتنا وقت گزر گیا کہ جس طرح ایک آدمی تیزی سے مغرب ادا کرتا ہے تو آگے چل پڑے، پھر مزدلفہ آئے اور وہاں آ کر دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر وہیں پر رات گزاری یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں سستی کرتا ہے ان کے ساتھ چلتے ہوئے منیٰ تشریف لائے اور جمرہ کی رمی فرمائی، پھر قربانی کی اور حلق کروایا پھر ان کے ساتھ چلے، پھر اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے نبی پر وحی فرمائی کہ { اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا }۔