(۱۴۹۲۱) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ فِی قولہ تعالی : {وَإِذْ یَرْفَعُ إبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ} قَالَ : لَمَّا فَرَغَ مِنَ البَیتِ جَائَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم ، فَأَرَاہُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ ، وَأَحْسَبُہُ قَالَ : وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ، ثُمَّ انْطَلَقَا إِلَی الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، قَالَ : فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ،فَرَمَی وَکَبَّرَ ، وَقَالَ لإِبْرَاہِیمَ : اِرْمِ وَکَبِّرْ ، قَالَ : فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ ، حَتَّی أَفَلَ الشَّیْطَانُ ، ثُمَّ انْطَلَقَا إِلَی الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی ، فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ حَتَّی أَفَلَ الشَّیْطَانُ ۔ ثُمَّ أَتَیَا الْجَمْرَۃَ الْقُصْوَی ، قَالَ : فَعَرَضَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ ، قَالَ : فَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَأَعْطَی إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَلاَم سَبْعَ حَصَیَاتٍ ، وَقَالَ : اِرْمِ وَکَبِّرْ ، فَرَمَیَا وَکَبَّرَا مَعَ کُلِّ رَمْیَۃٍ ، حَتَّی أَفَلَ الشَیطَان ۔ ثُمَّ أَتَی بِہِ إِلیَ مِنًی ، فَقَالَ : ہَاہُنَا یَحْلِقُ النَّاسُ رُؤُوسَہُمْ ، ثُمَّ أَتَی بِہِ جَمْعًا ، فَقَالَ : ہَاہُنَا یَجْمَعُ النَّاسُ الصَّلاَۃَ ، ثُمَّ أَتَی بِہِ عَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : عَرَفْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمِنْ ثُمَّ سُمِّیَتْ عَرَفَاتٍ۔
(١٤٩٢١) حضرت ابو مجلز قرآن پاک کی آیت { وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ } (کی تفسیر میں) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور پھر آپ کو طواف کر کے دکھایا اور اچھی طرح کروایا پھر صفا ومروہ کی سعی، پھر وہ دونوں عقبہ کی طرف چلے تو شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ نے شیطان کو مارتے ہوئے تکبیر پڑھی اور حضرت ابراہیم سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں حضرات جمرہ وسطی کی طرف چلے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔
پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرائیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔
پھر حضرت جبرائیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔