(۱۴۹۲۲) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبی مُوسَی ؛ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللہِ فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ} ، قَالَ : الْوُقُوفُ بِعَرَفَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَبِجَمْع مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْجِمَارُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْبُدْنُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، وَالْحَلْقُ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، فَمَنْ یُعَظِّمْہَا فَإِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ ۔ قَالَ : وَفِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {لَکُمْ فِیہَا مَنَافِعُ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی} ، قَالَ : لَکُمْ فِی کُلِّ مَشْعَرٍ مَنَافِعُ ، إِلَی أَنْ تَخْرُجُوا مِنْہُ إِلَی غَیْرِہِ ، فَالأَجَلُ الْمُسَمَّی : الْخُرُوجُ مِنْہُ إِلَی غَیْرِہِ ، {ثُمَّ مَحِلُّہَا إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ} قَالَ : مَحِلُّ ہَذِہِ الشَّعَائِرِ کُلِّہَا ، الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ۔
(١٤٩٢٢) حضرت محمد بن ابو موسیٰ قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب } کے متعلق فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ شعائر اللہ میں سے ہے، مزدلفہ شعائر اللہ میں سے ہے، جمرات کی رمی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے، اونٹ کی قربانی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے اور حلق کروانا شعائر اللہ میں سے ہے، پس جو ان شعائر کی تعظیم کرے گا یہ اس کے دل کے تقویٰ کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مناسک حج میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے دوسرے کی طرف نکلا جائے، قرآن پاک میں جو اجل مسمی کا تذکرہ اس سے مراد دوسرے مشعر کے طرف جانے تک کا وقت ہے۔ { ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَے الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ } ان تمام شعائر مقام و مرکز بیت اللہ کا طواف ہے۔