(۱۵۳۵۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ : یُوسُفُ ، کَانَ یَکُونُ مَعَ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبِی مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْہُ ؟ قَالَ : أَنْتَ أَکْبَرُ وَلَدِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحُجَّ عَنْ أَبِیکَ ، أَفَرَأَیْت لَوْ کَانَ عَلَی أَبِیکَ دَیْنٌ ، فَقَضَیْتَہُ ؟۔
(١٥٣٥١) حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد بنا حج کیے فوت ہوگئے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تو ان کا بڑا لڑکا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تو پھر اپنے والد کی طرف سے حج کر، تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے والد پر قرضہ ہوتا تو تو اس کو ادا نہ کرتا ؟