(۱۵۳۷۲) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّی أَکْرَیْتُ نَفْسِی مِنْ قَوْمٍ ، وَوَضَعْتُ عَنْہُمْ مِنْ أَجْرِی مِنْ أَجْلِ الْحَجِّ ، فَہَلْ یُجْزِئُ ذَلِکَ عَنِّی ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ہَذَا مِنَ الَّذِینَ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : {أُولَئِکَ لَہُمْ نَصِیبٌ مِمَّا کَسَبُوا وَاللَّہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ}۔
(١٥٣٧٢) حضرت ابن عباس کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں خود کو (خدمت حج) کے لیے کرائے کے طور پر پیش کیا۔ لیکن میں نے حج کی وجہ سے اپنی اجرت چھوڑ دی تو کیا میرا حج ہوگیا۔ تو کیا میری طرف سے (حج) کافی ہوگیا ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ اسی میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : { اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب }۔