(۱۵۷۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَنْزِلُ وَادِیَ نَمِرَۃَ ، فَلَمَّا قَاتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ أَرْسَلَ إلَیَّ أَی سَاعَۃٍ کَانَ یَرُوحُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ہَذَا الْیَوْمِ ، فَقَالَ : إذَا کَانَ ذَلِکَ رُحْنَا ، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلاً ، فَقَالَ : إذَا رَاحَ فَأَعْلِمْنِی ، فَأَرَادَ ابْنُ الزُّبَیْرِ أَنْ یَرُوحَ فَقَالُوا : لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ فَجَلَسَ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَرُوحَ فَقَالُوا : لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ فَجَلَسَ ، فَلَمَّا ، قَالُوا : قَدْ زَاغَتْ ، رَاحَ۔ (احمد ۲۵۔ ابوداؤد ۱۹۰۹)
(١٥٧٤١) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی نمرہ میں اترتے، پھر جب حجاج بن یوسف نے حضرت ابن زبیر کو شہید کیا تو میری طرف پیغام بھیجا کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس وقت چلا کرتے تھے آج کے دن میں ؟ آپ نے فرمایا جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک شخص کو بھیجا کہ جب وہ چلیں تو مجھے بتاؤ، جب حضرت ابن عمر نے جانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا ابھی سورج مائل ہوناشروع نہیں ہوا، آپ بیٹھ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ نے پھرجانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے پھر کہا کہ ابھی سورج زائل نہیں ہوا، آپ پھر بیٹھ گئے، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج زائل ہوگیا ہے تو آپ چل پڑے۔