(۱۶۰۶۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَجُوزٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ ، قَالَتْ : قدْ أُصِیبَ ابْنُ عَفَّانَ وَأَنَا ابْنَۃُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، قَالَتْ : وَلَقَدْ رَأَیْت الْبَیْتَ ، وَمَا عَلَیْہِ کِسْوَۃٌ ، إِلاَّ مَا یَکْسُوہُ النَّاسُ الْکِسَائُ الأَحْمَر یُطْرَحُ عَلَیْہِ ، وَالثَّوْبُ الأَبْیَضُ ، وَالْکِسَائُ الصُّوفُ ، وَمَا کُسِیَ مِنْ شَیْئٍ عُلِّقَ عَلَیْہِ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ ، وَمَا عَلَیْہِ ذَہَبٌ ، وَلاَ فِضَّۃٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : إنَّ الْبَیْتَ لَمْ یَکُنْ یُکْسَی عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرَ ، وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَساہُ الْوَصَائِلَ وَالْقَبَاطِیَّ ، وَالْوَصَائِلُ ثِیَابٌ یَمَانِیَّۃٌ۔
(١٦٠٦٥) حضرت محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ مکہ کی ایک عمر رسیدہ خاتون فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابن عفان کی شہادت ہوئی اس وقت میں چودہ سال کی لڑکی تھی، میں نے کعبہ کو اس حال میں دیکھا کہ اس پر کوئی چادر وغیرہ نہ تھی مگر جو لوگوں نے اس پر چڑھا دیا تھا، ایک سرخ رنگ کی چادر جو لوگوں نے اس پر ڈال دی تھی اور سفید کپڑا، اور اونی چادر اور کوئی ایسی چیز نہیں پہنائی گئی تھی جو خانہ کعبہ پر لٹکائی ہوئی ہو (یعنی غلاف بنایا گیا ہو) ۔ تحقیق میں نے بیت اللہ کو اس حال میں دیکھا کہ اس پر کوئی سونا، چاندی نہ تھا، حضرت محمد راوی فرماتے ہیں کہ حضرات شیخین کے دور میں خانہ کعبہ پر غلاف نہیں چڑھایا گیا تھا، بیشک حضرت عمر بن عبد العزیز نے مقری اور یمنی چادریں (غلاف) اس پر چڑھائیں۔