(۱۶۲۰۲) حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ وَجَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ عَمَّ وَلَدِی خَطَبَنِی فَرَدَّہُ أَبِی وَزَوَّجَنِی وَأَنَا کَارِہَۃٌ، قَالَ : فَدَعَا أَبَاہَا ، فَسَأَلَہُ ، عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : إنِّی أَنْکَحْتُہَا وَلَمْ آلُوہَا خَیْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ نِکَاحَ لَکِ ، اذْہَبِی فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔ (عبدالرزاق ۱۰۳۰۳)
(١٦٢٠٢) حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کردیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لیے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کرلو۔