(۱۶۲۰۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَزِیدَ وَمُجَمِّع بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّیْنِ أَخْبَرَاہُ أَنَّ رَجُلاً مِنْہُمْ یُدْعَی خِذَامًا أَنْکَحَ ابْنَۃً لَہُ ، فَکَرِہَتْ نِکَاحَ أَبِیہَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَرَدَّ عَنْہَا نِکَاحَ أَبِیہَا ، فَخُطِبَتْ فَنَکَحَتْ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَذَکَرَ یَحْیَی أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّہَا کَانَتْ ثَیِّبًا۔ (بخاری ۵۱۳۹۔ ابوداؤد ۲۰۹۴)
(١٦٢٠٣) حضرت عبدالرحمن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری فرماتے ہیں کہ خذام نامی ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی کرائی۔ اس لڑکی نے اپنے والد کے کرائے ہوئے نکاح کو ناپسند کیا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور ساری بات کا ذکر کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والد کے نکاح کو مسترد کردیا۔ پھر اس کے نکاح کے پیغام آئے اور انھوں نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے نکاح کرلیا۔ راوی یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ وہ ثیبہ تھیں۔