(۱۶۲۰۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنْ ہُزَیْلٍ قَالَ : رُفِعَتْ إلَی عَلِیٍّ امْرَأَۃٌ زَوَّجَہَا خَالُہَا وأمہا ، قَالَ : فَأَجَازَ عَلِیٌّ النِّکَاحَ ، قَالَ : وَقَالَ سُفْیَانُ : لاَ یَجُوزُ لأَنَّہُ غَیْرُ وَلِیٍّ ، وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ : ہُوَ جَائِزٌ لأَنَّ عَلِیًّا حِینَ أَجَازَہُ کَانَ بِمَنْزِلَۃِ الْوَلِیِّ۔
(١٦٢٠٥) حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک ایسی عورت کا مقدمہ آیا جس کے ماموں اور اس کی ماں نے اس کی شادی کرادی تھی۔ حضرت علی (رض) نے اس کے نکاح کو جائزقرار دیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ ولی نہیں ہیں۔ حضرت علی بن صالح فرماتے ہیں کہ جائز ہے کیونکہ جب حضرت علی (رض) نے اس نکاح کو جائز قرار دیا تو وہ ولی کے درجہ میں تھے۔