(۱۶۲۰۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَۃَ أَنْکَحَتْ حَفْصَۃَ ابْنَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَضِبَ وَقَالَ : أَی عِبَادَ اللہِ ، أَمِثْلِی یُفْتَاتُ عَلَیْہِ فِی بَنَاتِہِ ؟ فَغَضِبَتْ عَائِشَۃُ وَقَالَتْ : أَیُرْغَبُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ۔
(١٦٢٠٤) حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر کی شادی منذر بن زبیر سے کرادی۔ اس وقت ان کے والد عبدالرحمن غائب تھے۔ جب حضرت عبد الرحمن واپس آئے تو بہت غصے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! کیا میرے جیسے شخص اس قابل ہیں کہ ان کی بیٹیوں کے بارے میں اس کی مرضی کے بغیر فیصلہ کیا جائے ؟ اس پر حضرت عائشہ (رض) غصہ میں آئیں اور فرمایا کہ کیا منذر جیسے لوگوں سے اعراض کیا جاسکتا ہے ؟