(۱۶۷۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ کَانَتْ تَحْتَہُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ فَکَرِہَ مِنْ أَمْرِہَا إمَّا کِبَرًا ، أَوْ غَیْرَہُ فَأَرَادَ أَنْ یُطَلِّقَہَا ، فَقَالَتْ : لاَ تُطَلِّقْنِی وَاقْسِمْ لِی مَا شِئْت فَجَرَتِ السُّنَّۃُ بِذَلِکَ فَنَزَلَتْ : {وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا}۔(طبرانی ۳۰۹۔ حاکم ۳۰۸)
(١٦٧٢٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی حضرت رافع بن خدیج کے نکاح میں تھیں۔ رافع بن خدیج کو ان کا ادھیڑ پن یا کوئی اور چیز بری لگی تو انھوں نے انھیں طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن خاتون نے کہا کہ آپ مجھے طلاق نہ دیں بلکہ میرے لیے جو چاہیں حق میں سے تقسیم کرلیں۔ اس کے بعد سے یہ دستور بن گیا اور قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی (ترجمہ) اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ)