(۱۶۷۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ یَسْتَفْتِیہِ فِی {امْرَأَۃ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا} ، فَقَالَ : ہِیَ الْمَرْأَۃُ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَنبو عَیْنَاہُ مِنْ دَمَامَتہَا ، أَوْ فَقْرِہَا ، أَوْ سُوئِ خُلُقِہَا فَتَکْرَہُ فِرَاقَہُ فَإِنْ وَضَعَتْ لَہُ مِنْ مہرہا شَیْئًا حَلَّتْ لَہُ ، وَإِنْ جَعَلَتْ مِنْ أَیَّامِہَا شَیْئًا فَلاَ حَرَجَ۔
(١٦٧٣١) حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس کا خاوند اس کی بداخلاقی، تنگدستی اور نامناسب رویہ سے تنگ ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہے لیکن بیوی اس سے الگ ہونے پر راضی نہ ہو۔ اگر عورت اپنے مہر میں سے کوئی مقدار اس کے لیے چھوڑ دے تو مرد کے لیے حلال ہے اور اگر عورت اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔