(۱۷۱۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّ غُلاَمًا لأَبِی مُوسَی ، وَکَانَ صَاحِبَ إبِلِہِ تَزَوَّجَ أَمَۃً لِبَنِی جَعْدَۃَ وَسَاقَ إلَیْہَا خَمْسَ ذَوْدٍ فَحُدِّثَ أَبُو مُوسَی فَأَرْسَلَ إلَیْہِمْ: أَرْسِلُوا إلَیَّ غُلاَمِی وَمَالِی، فَقَالُوا : أَمَّا الْغُلاَمُ فَغُلاَمُکَ ، وَأَمَّا الْمَالُ فَقَدِ اسْتَحَلَّ بِہِ فَرْجَ صَاحِبَتِنَا فَاخْتَصَمُوا إلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَی لَہُمْ عُثْمَانُ بِخُمُسَی مَا اسْتَحَلَّ بِہِ فَرْجَ صَاحِبَتِہِمْ وَرَدَّ عَلَی أَبِی مُوسَی ثَلاَثَۃَ أَخْمَاسِہِ۔
(١٧١٢٣) حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کا ایک غلام تھا، جو ان کے اونٹوں کا نگران بھی تھا۔ اس نے بنو جعدہ کی ایک باندی سے شادی کی اور اسے مہر میں پانچ اونٹ دیئے۔ جب حضرت ابو موسیٰ (رض) کو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے بنو جعدہ کو پیغام بھجوایا کہ میرا غلام اور میرا مال مجھے واپس کرو۔ انھوں نے کہا کہ غلام تو آپ کا ہی ہے البتہ وہ مال اب عورت کا مہر بن گیا۔ یہ مقدمہ حضرت عثمان (رض) کے پاس پیش کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ پورے مال کے دو خمس تو عورت کا مہر ہوں گے اور تین خمس ابو موسیٰ اشعری کو دے دیئے جائیں۔