(۱۷۱۵۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ أَنَّ أَبَا عَلْقَمَۃَ الْہَاشِمِیَّ حدَّثَنَا أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ حَدَّثَہُمْ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ یَوْمَ حُنَیْنٍ سَرِیَّۃً فَأَصَابُوا حَیًّا مِنَ الْعَرَبِ یَوْمَ أَوْطَاسٍ فَہَزَمُوہُمْ وَقَتَلُوہُمْ وَأَصَابُوا نِسَائً لَہُنَّ أَزْوَاجٌ من زنی ، فَکَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تأثموا مِنْ غِشْیَانِہِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِہِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} مِنْہُنَّ فحلال لَکُمْ۔ (مسلم ۳۳۔ ابوداؤد ۲۱۴۸)
(١٧١٥٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی جنگ میں ایک لشکر کو عرب کے ایک قبیلے کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا۔ انھوں نے اس قبیلے سے لڑائی کی اور انھیں شکست دے دی۔ پھر ان کی بعض ایسی عورتوں سے جماع کیا جن کے خاوند تھے۔ ان کے اس عمل کو بعض صحابہ کرام (رض) نے گناہ سمجھا کیونکہ ان کے خاوند تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } یعنی تمہاری باندیاں بھی تمہارے لیے حلال ہیں۔