(۱۷۲۱۱) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ امْرَأَۃَ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ جَائَتْ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إنِّی کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیْرِ وَإِنَّمَا مَعَہُ مِثْلُ ہُدْبَۃِ الثَّوْبِ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : تُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إلَی رِفَاعَۃَ ؟ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ۔ (بخاری ۲۶۳۹۔ مسلم ۱۱۱)
(١٧٢١١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، انھوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر میں نے عبد الرحمن بن زبیر سے شادی کی، وہ محض کپڑے کی جھالر کی طرح تھے۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا ” اگر تم رفاعہ کے نکاح میں واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہو تو یہ اس وقت تک درست نہیں جب تک تم دوسرے خاوند کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے “