(۱۷۳۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ إذَا أَرَادَتْ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہَا أَحَدٌ أَمَرَتْ بِہِ فَأُرْضِعَ فَأَمَرَتْ أُمَّ کُلْثُومٍ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا عَشْرَ رَضَعَاتٍ فَأَرْضَعَتْہُ ثَلاَثًا فَمَرِضَتْ ، فَکَانَ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا وَأَمَرَتْ فَاطِمَۃَ بِنْتَ عُمَرَ أَنْ تُرْضِعَ عَاصِمَ بْنَ سَعْدٍ مَوْلًی لَہُمْ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ، فَأَرْضَعَتْہُ فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا۔ (عبدالرزاق ۱۳۹۲۹)
(١٧٣١٠) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کا جب کسی بچے کے بارے میں یہ ارادہ ہوتا کہ وہ بڑا ہو کر ان سے ملاقات کے لیے آسکے تو اپنی کسی عزیزہ خاتون کو حکم دیتی کہ وہ اسے دودھ پلا دیں۔ (تاکہ حضرت عائشہ (رض) اس کی رضاعی خالہ یا پھوپھی بن جائیں) اس سلسلے میں انھوں نے (اپنی بہن) حضرت ام کلثوم کو حکم دیا کہ وہ حضرت سالم کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں، (تاکہ سالم حضرت عائشہ (رض) کے رضاعی بھانجے بن جائیں) انھوں نے انھیں تین چسکیاں پلائیں اور وہ بیمار ہوگئیں، لہٰذا وہ بڑے ہو کر ان کے پاس نہیں آتے تھے۔ اسی طرح (حضرت حفصہ بنت عمر (رض) ) نے فاطمہ بنت عمر کو حکم دیا کہ عاصم ابن سعد کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں (تاکہ عاصم بن سعد ان کے رضاعی بھانجے بن جائیں) چنانچہ انھوں نے اس طرح کیا تو وہ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔