(۱۷۴۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قضَی عُمَرُ فِی امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ فِی عِدَّتِہَا أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا مَا عَاشَا وَیُجْعَلُ صَدَاقُہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ وَقَالَ : کَانَ نِکَاحُہَا حَرَامًا فَصَدَاقُہَا حَرَامًا ، وَقَضَی فِیہَا عَلِیٌّ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَتُوَفِّیَ عِدَّۃَ مَا بَقِیَ مِنَ الزَّوْجِ الأَوَّلِ ثُمَّ تَعْتَدُّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ وَلَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ثُمَّ إِنْ شَائَ خَطَبَہَا بَعْدَ ذَلِکَ۔
(١٧٤٨٣) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی عدت میں شادی کی تو حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ جب تک یہ زندہ ہیں ان کے درمیان جدائی کرادی جائے اور ان کا مہر بیت المال میں جمع کرادیا جائے۔ اور فرمایا کہ ان کا نکاح بھی حرام تھا اور مہر بھی حرام ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے، پھر عورت پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت گزارے پھر تین حیض عدت گزارے اور شرمگاہ کو حلال کرنے کی وجہ سے اسے مہر ملے گا۔ پھر اگر آدمی چاہے توا سے دوبارہ نکاح کا پیغام بھجوادے۔