(۱۷۶۷۳) حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بِنْ أَبِی کَثِیْرٍ أَنَّ عَلِیَّاً أُتِیَ فِیَ امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ رَجُلاً عَلَی أَنَّ عَلَیْہَا الصَّدَاقَ وبِیَدِہَا الفُرْقَۃُ والجِمَاعُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : خَالَفْتَ السُّنَّۃَ وَوَلَّیْتَ الأَمْرَ غَیْرَ أَہْلِہِ، عَلَیْکَ الصَّدَاقُ وَبِیَدِکَ الجِمَاعُ والفُرْقَۃُ ، وَلَکَ السُّنَّۃُ۔
(١٧٦٧٣) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا کہ ایک عورت نے کسی آدمی سے اس شرط پر شادی کی کہ مہر عورت کے ذمے ہوگا اور جدائی اور جماع کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوگا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تو نے سنت کی مخالفت کی اور معاملے کا ذمہ دار غیر اہل کو بنایا، مہر تجھ پر ہی ہوگا، جماع اور جدائی کا اختیار بھی تیرے پاس ہوگا، اور تیرے لیے ہی سنت ہے۔