hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 17671

.

ابن أبي شيبة

17671
Ibn Abi Shaybah
(۱۷۶۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیْدِ بِنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُ فَرَّقَ بَیْنَ المُتَلاَعِنَیْنِ قَالَ : فَتَعَلَّقَ بِہَا فَقَالَ : مَالِی ، فَقُلْتُ لاَ مَالَ لَکَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ إِلَی أَبِی بُرْدَۃَ وَقَالَ : یَذْہَبُ مَالِی وَامْرَأَتِی جَمِیعًا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : إِنَّ الَّذِی أَمَرْتَہُ أَنْ یُلاَعِنَ بَیْنَنَا قَالَ لاَ شَیْئَ لَکَ ، قَالَ : وَفَعَلَ ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ! قَالَ : فَجِئْتُ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بُرْدَۃَ : مَا یَقُوْلُ ہَذَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا یَقُوْلُ ؟ قَالَ : یَقُوْلُ : ذَہَبَتِ امْرَأَتُہُ وَمَالُہُ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا یَحْمِلُ الفُسَّاقَ عَلَی أَنْ یَزْنُوا ؟ یَتَزَوَّجُ المَرْأَۃَ ثُمَّ یَقْذِفُہَا ثُمَّ یُلاَعِنُہَا ویَأْخُذُ مَالَہُ ؟ قَالَ : فَکَتَبَ بِہِ إِلَی الحَجَّاجِ قَالَ : فَقَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً أَتَانِی ، قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّ الحَجَّاجَ أَمَرَہُ ، فَقَالَ : الَّذِی قُلْتَ أَشَیْئٌ قُلْتَہُ بِرَأْیِکَ ، أَوْ شَیْئٌ بَلَغَکَ ؟ قُلْتُ : قَضَی بِہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أُخْتِ بَنِی العَجْلاَن۔ (بخاری ۵۳۴۹۔ مسلم ۴)
(١٧٦٧٢) حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر (رض) نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی، آدمی نے سوال کیا کہ میرے مال کا کیا ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا کہ تجھے کوئی مال نہیں ملے گا۔ پھر وہ آدمی ابو بردہ (رض) کے پاس گیا اور عرض کیا کہ کیا میرا مال اور میری عورت دونوں گئے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ کہا کہ جس شخص نے تجھے لعان کا حکم دیا ہے اس نے کہا ہے کہ تیرے لیے کچھ نہیں ہے۔ کہا کہ کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ کہا ہاں۔ کہا کہ میں گیا۔ کہا کہ ابو بردہ کہتے ہیں کہ یہ کیا کہتا ہے ؟ کہا میں نے کہا کہ وہ کیا کہتا ہے ؟ کہا وہ کہتا ہے کہ اس کی بیوی اور مال دونوں گئے۔ کہا میں نے کہا کہ فاسقوں کو زنا پر کیا چیز آمادہ کرتی ہے ؟ وہ ایک عورت سے شادی کرتا ہے اور پھر اس پر تہمت لگاتا ہے پھر اس سے لعان کرتا ہے اور پھر اپنا مال لے لیتا ہے، یہ بات حجاج کی طرف لکھی گئی تو اس نے کہا اس نے سچ کہا۔ پھر ایک آدمی میرے پاس آیا اور میں یہ سمجھا کہ حجاج نے اسے حکم دیا ہوگا۔ اس نے کہا کہ آپ نے جو بات کی ہے وہ اپنی رائے سے کی ہے یا آپ تک پہنچی ہے۔ میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عجلان کی بہن کے بارے میں اسی کا فیصلہ فرمایا تھا۔