hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 17756

.

ابن أبي شيبة

17756
Ibn Abi Shaybah
(۱۷۷۵۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی امْرَأَۃٍ مُجِحٍّ وَہِیَ عَلَی بَابِ خِبَائٍ ، أَوْ فُسْطَاطٍ ، فَقَالَ : لِمَنْ ہَذِہِ ؟ فَقَالُوا : لِفُلاَنٍ ، قَالَ : أَیُلِمُّ بِہَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لَقَدْ ہَمَمْت أَنْ أَلْعَنَہُ لَعْنَۃً تَدْخُلُ مَعَہُ قَبْرَہُ ، فَکَیْفَ یَسْتَخْدِمُہُ وَہُوَ یَغْذُوہُ فِی بَصَرِہِ وَسَمْعِہِ ، کَیْفَ یَرِثُہُ وَہُوَ لاَ یَحِلُّ لَہُ۔ (مسلم ۱۰۶۶۔ ابوداؤد ۲۱۴۹)
(١٧٧٥٧) حضرت ابو دردائ (رض) سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسی حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو قریب الولادت تھی (اور قیدی بنا کر لائی گئی تھی) ، وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ جائے۔ وہ اس (سے پیدا ہونے والے بچے ) سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ اس کی سماعت اور بصارت کو تقویت دے رہا ہے ؟ وہ اس کا وارث کیسے ہوگا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے ؟