(۱۷۷۵۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْم ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ رَجُلاً کَانَتْ عِنْدَہُ یَتِیْمَۃٌ وکَانَتْ تَحْضُرُ مَعَہُ طَعَامَہُ قَالَ : فَخَافَتِ امْرَأَتہ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا عَلَیْہَا قَالَ : وَغَابَ الرَّجُلُ غَیْبَۃً فَاسْتَعَانَتِ امْرَأَتہ نِسْوَۃً عَلَیْہَا فَضَبَطْنَہَا لَہَا وَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَہَا بِیَدِہَا ، وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ یَفْقِدُہَا ، عَنْ مَائِدَتِہِ ، فَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ : مَا شَأْنُ فُلاَنَۃَ لاَ تَحْضُرُ طَعَامِی کَمَا کَانَتْ تَحْضُرُ ؟ فَقَالَتْ : دَعْ عَنْک فُلاَنَۃَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُہَا ؟ قَالَ : فَقَذَفَتْہَا قَالَ : فَانْطَلَقَ الرجل حَتَّی دَخَلَ عَلَیْہَا ، فَقَالَ : مَا شَأْنُک ؟ مَا أَمْرُک ؟ قَالَ : فَجَعَلَتْ لاَ تَزِیدُ عَلَی الْبُکَائِ ، فَقَالَ : أَخْبِرِینِی فَأَخْبَرَتْہُ قَالَ : فَانْطَلَقَ إلَی عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَأَرْسَلَ إلَی امْرَأَۃِ الرَّجُلِ وَإِلَی النِّسْوَۃِ فَسَأَلَہُنَّ قَالَ : فَمَا لَبِثْنَ أَنِ اعْتَرَفْنَ قَالَ : فَقَالَ لِلْحَسَنِ : اقْضِ فِیہَا ، فَقَالَ الْحَسَنُ : أَرَی الْحَدَّ عَلَی مَنْ قَذَفَہَا وَالْعُقْرَ عَلَیْہَا وَعَلَی الْمُمْسِکَاتِ قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : لَوْ کُلِّفت إبِلٌ طَحِینًا لَطَحَنَتْ قَالَ : وَمَا یَطْحَنُ یَوْمَئِذٍ بَعِیرٌ۔
(١٧٧٥٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے پاس ایک یتیم بچی تھی، وہ کھانا بھی اس کے ساتھ کھاتی تھی، آدمی کی بیوی کو اندیشہ ہوا کہ کہیں آدمی اس سے شادی نہ کرلے، چنانچہ ایک مرتبہ جب وہ آدمی کہیں گیا ہوا تھا تو اس عورت نے کچھ عورتوں کی مدد سے اس لڑکی کو باندھا اور اس کے پردہ بکارت کو زائل کردیا، جب آدمی واپس آیا تو دستر خوان پر اس یتیم بچی کو نہ پایا۔ اس نے اپنی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اس کا تو ذکر ہی نہ کرو، آدمی نے وجہ پوچھی تو عورت نے بچی پر زنا کا الزام لگادیا۔ آدمی اس بچی کے پاس آیا اور اس سے واقعہ کی تصدیق چاہی، بچی نے رونے کے علاوہ کوئی بات نہ کی، اس نے اصرار کیا تو بچی نے ساری بات بتادی۔ وہ آدمی اس مقدمے کو لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی۔ حضرت علی (رض) نے اس آدمی کی بیوی کو اور باقی عورتوں کو بلا لیا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے فوراً ساری بات کو تسلیم کرلیا۔ حضرت علی (رض) نے حضرت حسن (رض) سے فیصلہ کرنے کو کہا تو حضرت حسن (رض) نے فرمایا کہ تہمت لگانے والی عورت پر حد جاری ہوگی اور پردہ بکارت کو زائل کرنے کا جرمانہ اس عورت پر اور پکڑنے والی عورتوں پر ہوگا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر اونٹوں سے پسوائی کا کام لیا جاتا تو آج میں ان عورتوں کو اونٹوں کے نیچے پسوا دیتا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں اونٹوں سے پسوائی کا کام نہیں لیا جاتا تھا۔