(۱۷۹۹۴) حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ، عَنْ نُبَیْحِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْعَنَزِیِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ: مَشَیْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَک امْرَأَۃٌ یَا جَابِرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ ، فَقَالَ : ثَیِّبًا نَکَحْت أَمْ بِکْرًا ؟ قُلْتُ: تَزَوَّجْتہَا وَہِیَ ثَیِّبٌ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَوْلاَ تَزَوَّجْتہا جَارِیَۃً تُلاَعِبُہَا قَالَ : قُلْتُ لَہُ : قتل أبی مَعَک یَوْم کَذَا وَکَذَا وَترَکَ جَوَارِیًا لہ فَکَرِہْت أَنْ أَضُمَّ إلَیْہِنَّ جَارِیَۃً ، فَتَزَوَّجْت ثَیِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَ إحْدَاہُنَّ ، وَتَخِیطُ دِرْعَ إحْدَاہُنَّ إذَا تَخَرَّقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّک نِعِمَّا رَأَیْت۔ (مسلم ۵۵۔ احمد ۳/۳۵۸)
(١٧٩٩٤) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے جابر ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ثیبہ سے شادی کی یا باکرہ سے ؟ میں نے کہا کہ ثیبہ سے شادی کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے نوجوان لڑکی سے شادی کرتے تاکہ تم اس سے دل لگی کرتے۔ میں نے کہا کہ میرے والد فلاں جنگ میں آپ کی معیت میں جامِ شہادت نوش کرگئے، ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں، میں نے ان کے ساتھ ایک اور نوجوان کو لانا پسند نہ کیا۔ میں نے ایک ثیبہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی جوؤیں بھی نکالے اور اگر ان کا کپڑا پھٹ جائے تو اسے بھی سی دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے صحیح بات سوچی۔