(۱۸۲۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ عِیسَی بْنِ حِطَّانَ ، عَنِ الریَّانِ بْنِ صَبِرَۃَ الْحَنَفِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ ، فَأَخَذَ نَوَاۃً ، فَقَالَ : نَوَاۃٌ طَالِقٌ ، نَوَاۃٌ طَالِقٌ ، ثَلاَثًا ، قَالَ : فَرُفِعَ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : مَا نَوَیْتَ ؟ ، قَالَ : نَوَیْتُ امْرَأَتِی ، قَالَ : فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
(١٨٢٨٧) حضرت عیسیٰ بن حطان کہتے ہیں کہ ریان بن صبرہ حنفی (رض) اپنی قوم کی مسجد میں بیٹھا تھا، اس نے ایک گٹھلی پکڑی اور تین مرتبہ کہا کہ گٹھلی کو طلاق ہے۔ یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس پیش ہوا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تیری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی اور حضرت علی (رض) نے ان کے درمیان جدائی کرادی۔