(۱۸۴۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرْسَلَ عُرْوَۃُ إِلَی شُرَیْحٍ اعْتَلَّ عَلَیْہِ فَعَزَمَ عَلَیْہِ لَیَقُولَنَّ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ سَنَّ سُنَنًا ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدِ ابْتَدَعُوا ، وَإِنَّہُمْ عَمَدُوا إِلَی بِدَعِہِمْ فَخَلَطُوہَا بِالسُّنَنِ ، فَإِذَا انْتَہَی إلَیْک مِنْ ذَلِکَ شَیْئٌ ، فَمَیِّزُوا السُّنَنَ فَأَمْضُوہَا عَلَی وَجْہِہَا ، وَأَلْحِقُوا الْبِدَعَ بِأَہْلِہَا ، أَمَّا طَالِقٌ : فَمَعْرُوفَۃٌ ، وَأَمَّا اَلْبَتَّۃَ : فَبِدْعَۃٌ یُوقَفُ عَلَی بِدْعَتِہِ ، فَإِنْ شَائَ تَقَدَّمَ ، وَإِنْ شَائَ تَأَخَّرَ۔
(١٨٤٤٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ (رض) نے اس بارے میں حضرت شریح (رض) سے استفسار کیا، انھوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ (رض) کے اصرار پر انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لیے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انھوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے تو تاخر۔