(۱۸۴۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَائَ بِظِئْرٍ لَہُ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَیْر ، فَقَالَ : إِنَّ ظِئْرِی ہَذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ اَلْبَتَّۃَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، فَہَلْ عِنْدَکُمَا بِذَلِکَ عِلْمٌ ؟ أَوْ ہَلْ تَجِدَانِ لَہُ رُخْصَۃً ؟ فَقَالاَ : لاَ ، وَلَکِنَّا تَرَکْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ عِنْدَ عَائِشَۃَ ، فَأْتِہِمْ فَسَلْہُمْ ثُمَّ ارْجِعْ إلَیْنَا فَأَخْبِرْنَا، فَأَتَاہُمْ فَسَأَلَہُمْ ؟ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بُتَّتْ ، وَذَکَرَ مِنْ عَائِشَۃَ مُتَابَعَۃً لَہُمَا۔
(١٨٤٤٦) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) اپنی رضاعی ماں کے خاوند کو حضرت عاصم بن عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس لائے اور فرمایا کہ انھوں نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق قطعی دے دی ہے، آپ کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے ؟ یا آپ کے پاس اس بارے میں کوئی رخصت ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہمیں تو علم نہیں، تم حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر آکر ہمیں بھی بتاؤ۔ وہ گئے اور ان سے سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اس کے لیے حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ وہ بائنہ ہوگئی۔ جبکہ انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کے حوالے سے بھی انہی حضرات کی متابعت کو نقل کیا۔