(۱۸۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ ذِرٍّ ، قَالَ : أتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ ، فَقَالَ : مَا جَائَ بِکَ ؟ قُلْتُ : ابْتِغَائَ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَضَعُ أَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ۔
قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا کُنَّا فِی سَفَرٍ أَمَرَنَا أَنْ لاَ نَنْزِعَ أَخْفَافَنَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، إِلاَّ مِنْ جَنَابَۃٍ وَلَکِنْ مِنْ غَائِطٍ ، وَ بَوْلٍ ، وَنَوْمٍ۔ (ترمذی ۳۵۳۵۔ احمد ۴/۲۳۹)
(١٨٧٩) حضرت ذرّ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسّال مرادی کے پاس حاضر ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ علم کی تلاش میں۔ فرمایا کہ فرشتے طالب علم کے پاؤں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب ہم کسی سفر میں ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اس بات کا حکم دیتے تھے کہ ہم سوائے حالتِ جنابت کے تین دن تک موزے نہ اتاریں۔ لہٰذا بول و براز اور نیند میں مشغول کیوں نہ ہوں۔