(۱۸۹۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اخْتَلَفْتُ أَنَا وَسَعْدٌ بِالْقَادِسیَّۃِ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، فَقَالَ سَعْدٌ: امْسَحْ عَلَیْہِمَا ، وَأَنْکرْتُ أَنَا ذَلِکَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ سَعْدٌ، فَقَالَ لَہُ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ یُنْکِرُ الْمَسْحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّ سَعْدًا یَقُولُ : إِمْسَحْ عَلَیْہِمَا بَعْدَ الْحَدَثِ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : أَلاَّ بَعْدَ الْحَدَثِ ، أَلاَّ بَعْدَ الْخِرَائَۃِ۔
(١٨٩٨) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے موقع پر موزوں پر مسح کے بارے میں میرا اور حضرت سعد کا اختلاف ہوگیا۔ وہ کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو جبکہ میں انکار کرتا تھا۔ جب ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سعد نے ان سے اس معاملے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ابن عمر موزوں پر مسح کا انکار کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! حضرت سعد کہتے ہیں کہ وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر مسح کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کرو، پاخانہ کرنے کے بعد بھی مسح کرو۔