(۱۹۳۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ قَالَ : کَتَبَ إلَیَّ الزُّہْرِیُّ إنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ تُرْضِعُ ابْنًا لَہُ ، فَمَکَثَتْ سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ ، أَوْ ثَمَانِیَۃَ أَشْہُرٍ لاَ تَحِیضُ فَقِیلَ لَہُ : إِنْ مِتَّ وَرِثَتْک فَقَالَ : احْمِلُونِی إلَی عُثْمَانَ فَحَمَلُوہُ فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إلَی عَلِیٍّ وَزَیْدٍ فَسَأَلَہُمَا فَقَالاَ : نَرَی أَنْ تَرِثَہُ ، فَقَالَ : وَلِمَ ؟ فَقَالاَ : لأَنَّہَا لَیْسَتْ مِنَ اللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ ، وَلاَ من اللاَّئِی لم یَحِضْنَ ، وَإِنَّمَا یَمْنَعُہَا مِنَ الْمَحِیضِ الرَّضَاعُ فَأَخَذَ الرَّجُلُ ابْنَہُ فَلَمَّا فَقَدَتْہُ حَاضَتْ حَیْضَۃً ، ثُمَّ حَاضَتْ فِی الشَّہْرِ الثَّانِی حَیْضَۃً أُخْرَی ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَحِیضَ الثَّالِثَۃ فَوَرِثَتْہُ
(١٩٣٣٦) حضرت یزید بن ابی حبیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے میری طرف خط لکھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جبکہ وہ اس کے ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ پھر وہ عورت سات مہینے یا آٹھ مہینے رکی رہی اسے حیض نہ آیا۔ آدمی سے کسی نے کہا کہ اگر تو مرگیا تو وہ تیری وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ مجھے حضرت عثمان (رض) کے پاس لے جاؤ، اسے حضرت عثمان کے پاس لے جایا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اسے حضرت علی (رض) اور حضرت زید (رض) کے پاس لے جاؤ اور یہ انہی سے اس بارے میں سوال کرے۔ انھوں دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ وہ وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس لیے کہ یہ ان عورتوں میں سے نہیں جو حیض سے مایوس ہیں اور ان میں سے بھی نہیں جنہیں حیض نہیں آتا۔ اس کو حیض نہ آنے کی وجہ بچے کو دودھ پلانا ہے۔ اس کے بعد آدمی نے اپنا بچہ اس سے لے لیا، بچے کادودھ چھڑوا دینے کے بعد اس عورت کو ایک حیض آیا، پھر دوسرے مہینے اسے دوسرا حیض آیا، پھر عورت کو تیسرا حیض آنے سے پہلے آدمی کا انتقال ہوگیا تو وہ عورت اس کی وارث بن گئی۔