(۱۹۳۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّ جدہ حبان بْنِ مُنْقِذٍ کَانَتْ عِنْدَہُ امْرَأَتَانِ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ وَامْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَنَّہُ طَلَّقَ الأَنْصَارِیَّۃَ وَہِیَ تُرْضِعُ وَکَانَتْ إذَا أَرْضَعَتْ مَکَثَتْ سَنَۃً لاَ تَحِیضُ ، فَمَاتَ حِبَّانُ عِنْدَ رَأْسِ السَّنَۃِ فَوَرِثَہَا عُثْمَانُ وَقَالَ لِلْہَاشِمِیَّۃِ : ہَذَا رَأْیُ ابْنِ عَمِّکَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ۔
(١٩٣٣٩) حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان (رض) کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت حبان بن منقذ کی دو بیویاں تھیں، ایک بنو ہاشم سے اور دوسری انصار سے۔ انھوں نے اپنی انصاریہ بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں۔ جب وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں تو انھیں ایک سال تک حیض نہیں آتا تھا۔ حضرت حبان وہ سال پورا ہونے سے پہلے انتقال کرگئے تو حضرت عثمان (رض) نے ان کی بیوی کو وارث قرار دیا۔ اور ہاشمیہ بیوی سے فرمایا کہ یہی رائے تمہارے چچا زاد حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی بھی ہے۔