(۱۹۳۹۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : کَانَ مِنَ الْحَیِّ فَتًی فِی بَیْتٍ لَمْ تَزَلْ بِہِ أُمُّہُ حَتَّی زَوَّجَتْہُ ابْنَۃَ عَمٍّ لَہُ فَعَلِقَ مِنْہَا مَعْلَقًا ، ثُمَّ قَالَتْ لَہُ أُمُّہُ : طَلِّقْہَا ، فَقَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ ، عَلِقَتْ مِنِّی مَا لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أُطَلِّقَہَا مَعَہُ ، قَالَتْ : فَطَعَامُک وَشَرَابُک عَلَیَّ حَرَامٌ حَتَّی تُطَلِّقَہَا ، فَرَحَلَ إلَی أَبِی الدَّرْدَائِ إلَی الشَّامِ، فَذَکَرَ لَہُ شَأْنَہُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی آمُرُک أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَکَ ، وَلاَ أَنَا بِالَّذِی آمُرُک أَنْ تَعُقَّ وَالِدَتک۔
(١٩٣٩٩) حضرت ابو عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ ایک قبیلے میں ایک نوجوان تھا جس کی والدہ نے اصرار کرکے اس کی شادی اس کی چچا زاد بہن سے کرادی۔ پھر وہ لڑکا بھی اس سے محبت کرنے لگا۔ پھر اس کی والدہ نے اسے حکم دیا کہ اس لڑکی کو طلاق دے دے۔ اس نوجوان نے کہا کہ اب میں اسے چاہنے لگا ہوں اور اب اسے طلاق دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی ماں نے کہا کہ تیرا کھانا اور تیرا پانی مجھ پر حرام ہے جب تک تو اسے طلاق نہ دے دے۔ اس نوجوان نے شام کی طرف سفر کیا اور حضرت ابو دردائ (رض) کے پاس پہنچا اور ان سے سارا قصہ ذکر کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اپنی والدہ کی نافرمانی کا کہتا ہوں۔