(۱۹۳۹۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ الأَسَدِیِّ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاہُ أَعْرَابِیَّانِ فَاکْتَنَفَاہُ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : إنِّی کُنْت أَبْغِی إبِلاً لِی فَنَزَلْت بِقَوْمٍ فَأَعْجَبَتْنِی فَتَاۃٌ لَہُمْ فَتَزَوَّجْتہَا فَحَلَفَ أَبَوَایَ أَنْ لاَ یَضُمَّاہَا أَبَدًا ، وَحَلَفَ الْفَتَی فَقَالَ : عَلَیْہِ أَلْفُ مُحَرَّرٍ وَأَلْفُ ہَدِیَّۃٍ وَأَلْفُ بَدَنَۃٍ إِنْ طَلَّقَہَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا أَنَا بِالَّذِی آمُرُک أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَکَ وَلاَ أَنْ تَعُقَّ وَالِدَیْک ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِہَذِہِ الْمَرْأَۃِ ؟ قَالَ : ابْرِرْ وَالِدَیْک۔
(١٩٣٩٨) حضرت ابوطلحہ اسدی (رض) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ دو دیہاتی اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا کہ میں اپنا اونٹ تلاش کرتا ہوا ایک قوم میں جا پہنچا، ان کی ایک لڑکی مجھے بہت پسند آئی میں نے اس سے شادی کرلی۔ میرے والدین نے قسم کھالی ہے کہ وہ اس عورت کو بہو کے طور پر کبھی قبول نہ کریں گے۔ لڑکے نے قسم کھالی کہ اگر وہ اس کو طلاق دے تو اس پر ایک ہزار غلام آزاد کرنا، ایک ہزار ہدیے دینا اور ایک ہزار اونٹ صدقہ کرنا لازم ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی والدین کی نافرمانی کا۔ اس نے کہا کہ پھر میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا کہ والدین سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہو۔