(۱۹۴۶۵) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ طَلَّقَ امرأتہ جَمِیلَۃَ بِنْتَ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الأَقْلَحِ فَتَزَوَّجَتْ ، فَجَائَ عُمَرُ فَأَخَذَ ابْنَہُ فَأَدْرَکَتْہُ الشَّمُوسُ ابْنَۃُ أَبِی عَامِرٍ الأَنْصَارِیَّۃُ ، وَہِیَ أُمُّ جَمِیلَۃَ ، فَأَخَذَتْہُ ، فَتَرَافَعَا إلَی أَبِی بَکْرٍ وَہُمَا مُتَشَبِّثَانِ ، فَقَالَ لِعُمَرَ : خَلِّ بَیْنَہَا وَبَیْنَ ابْنِہَا ، فأخذتہ۔
(١٩٤٦٥) حضرت قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی اہلیہ حضرت جمیلہ بنت عاصم بن ثابت کو طلاق دے دی۔ پھر جمیلہ بنت عاصم نے شادی کرلی۔ تو حضرت عمر (رض) اپنے بیٹے کو لینے کے لیے آئے۔ حضرت جمیلہ کی والدہ شموس بنت ابی عامر انصاریہ نے بچے کو اٹھا لیا اور دونوں اس مقدمے کو لے کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس گئے، انھوں نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا کہ بچے اور اس کی ماں کے بیچ میں مت آؤ۔ پھر وہ بچے کو لے کر چلی گئیں۔