hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 19465

.

ابن أبي شيبة

19465
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۴۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَمِّہَا فَمَاتَ عَنْہَا فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَائَ بَنُو عَمِّ الْجَارِیَۃِ فَقَالُوا : إنا أَخِذُو ابْنَتَنَا قَالَتْ : إنِّی أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ أَنْ تَفَرقُوا بَیْنِی وَبَیْنَ ابْنَتِی فَأَنَا الْحَامِلُ وَأَنَا الْمُرْضِعُ وَلَیْسَ أَحَدٌ أخیر لقرب ابْنَتِی مِنِّی فَأَبَوا ، فَقَالَت : مَوْعِدُکُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : إذَا خَیَّرَک رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُولِی : أَخْتَارُ اللَّہَ وَالإِیمَانَ وَدَارَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لاَ تَذْہَبُونَ بِہَا مَا بَقِیَتْ عُنُقِی فِی مَکَانِہَا وَجَاؤُوا إلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَضَی لَہُمْ بِہَا فَقَالَ بِلاَلٌ : یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللہِ ، شَہِدْت ہَؤُلاَئِ النَّفَرُ وَہَذِہِ الْمَرْأَۃُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اخْتَصَمُوا فَقَضَی بِہَا لأُمِّہَا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : وَأَنَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لاَ یَذْہَبُونَ بِہَا مَا دَامَتْ عُنُقِی فِی مَکَانِہَا فَدَفَعَہَا إلَی أُمِّہَا۔
(١٩٤٦٦) حضرت محمد بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔ (اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی) اس کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انھوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے جائیں گے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان میں نہ آؤ۔ میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا۔ لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تو اس نے کہا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو اور فیصلہ کرالو۔ پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو، ایمان کو، مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کرلیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ ( حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد) پھر وہ لوگ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے تو آپ نے بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا۔ اس پر حضرت بلال (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تھے، یہ عورت بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچی کا فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے۔ پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔