(۱۹۶۷۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَیْمَانَ الضُّبَعِیِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ بْنِ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی تُجَاہَ الْعَدُوِّ یَقُولُ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّ السُّیُوفَ مَفَاتِیحُ الْجَنَّۃِ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ رَثُّ الْہَیْئَۃِ : یا أبا موسی آنْتَ سَمِعْت ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَسَلَّ سَیْفَہُ وَکَسَرَ غِمْدَہُ وَالْتَفَتَ إلَی أَصْحَابِہِ ، وَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَیْکُمَ السَّلاَمَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ إلَی الْعَدُوِّ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ۔ (مسلم ۱۴۶۔ ترمذی ۱۶۵۹)
(١٩٦٧٣) حضرت ابوبکر بن ا بی موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے دشمن کا آمنا سامنا ہونے پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔ یہ حدیث سن کر ایک پراگندہ حالت کے حامل شخص نے کہا کہ اے ابو موسیٰ (رض) ! کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا : ہاں، میں نے سنی ہے۔ اس پر اس آدمی نے اپنی تلوار نکالی اور نیام کو توڑ کر اپنے ساتھیوں کو سلام کیا پھر دشمن کی طرف بڑھا اور ان سے لڑتا رہا ، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔