(۱۹۶۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قامَ یَزِیدُ بْنُ شَجَرَۃَ فِی أَصْحَابِہِ ، فَقَالَ : إِنَّہَا قَدْ أَصْبَحَتْ عَلَیْکُمْ مِنْ بَیْنِ أَخْضَرَ وَأَحْمَرَ وَأَصْفَرَ ، وَفِی الْبُیُوتِ مَا فِیہَا ، فَإِذَا لَقِیتُمُ الْعَدُوَّ غَدًا فَقُدُمًا قُدُمًا فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا تَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ خُطْوَۃٍ ، إِلاَّ تَقَدَّمَ إلَیْہِ الْحُورُ الْعِینِ ، فَإِنْ تَأَخَّرَ اسْتَتَرْنَ مِنْہُ ، وَإِنِ اسْتُشْہِدَ کَانَتْ أَوَّلُ نَضْحَۃٍ کَفَّارَۃَ خَطَایَاہُ ، وَتَنْزِلُ إلَیْہِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ، تَنْفُضَانِ عَنْہُ التُّرَابَ، وَتَقُولاَنِ لَہُ: مَرْحَبًا، قَدْ آنَ لَکَ ، وَیَقُولُ: مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَکُمَا۔
(طبرانی ۶۴۲۔ مسندہ ۵۲۷)
(١٩٦٧٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن شجرہ (رض) ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہوئے تھے اور ان سے فرمایا کہ تم پر تمہارے گھروں میں سبز، سرخ، اور زرد نعمتیں برس رہی ہیں، کل جب تم دشمن کی طرف بڑھو تو ایک ایک قدم رکھ کر آگے بڑھنا، کیونکہ میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب آدمی دشمن کے مقابلہ میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو موٹی آنکھوں والی حوریں اس کی طرف بڑھتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو حوریں بھی اس سے پردہ کرلیتی ہیں۔ جب وہ شہید ہوجاتا ہے تو اس کے خون کا پہلا قطرہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس کے شہید ہونے کے بعد دو حوریں اس کے پاس آتی ہیں اور اس سے مٹی صاف کرتی ہیں اور اسے کہتی ہیں کہ تجھے خوش آمدید ! ہم تیرے لیے ہیں، وہ کہتا ہے تمہیں مبارک ہو میں تمہارے لیے ہوں۔