(۱۹۶۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَتِیکٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللہِ ، ثُمَّ جَمَعَ أَصَابِعَہُ الثَّلاَثَۃَ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَیْنَ الْمُجَاہِدُونَ ، فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِہِ وَمَاتَ ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللہِ ، أَوْ لَسَعَتْہُ دَابَّۃٌ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللہِ ، وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِہِ ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللہِ ، وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدَ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ۔ (احمد ۴/۳۶۔ حاکم ۸۸)
(١٩٦٧٦) حضرت عبداللہ بن عتیک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی تین انگلیوں کو جمع فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا کہ جہاد کرنے والے کہاں ہیں ؟ اور وہ اپنی سواری سے گر کر مرگیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا اجر ثابت ہوگیا، یا اسے کسی چیز نے ڈس لیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہوگیا، یا وہ طبعی موت مرگیا تو اس کا اجر بھی ثابت ہوگیا اور اگر کوئی دشمن کا وار سہہ کر مرا تو اس نے اچھے ٹھکانے کو پالیا۔