(۱۹۶۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ بْنِ حَفْصٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ یَوْمَ بَدْرٍ : {سابقوا إلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ} قَالَ مسعر : إمَّا الَّتِی فِی آلِ عِمْرَانَ ، وَإِمَّا الَّتِی فِی الْحَدِیدِ ؟ فَقَالَ ابن قُسْحُم : إِنْ فَتَحْتُمْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا لِمَنْ لَقِیَ ہَؤُلاَئِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ؟ فَقَالَ : الْجَنَّۃُ ، قَالَ : حَسْبِی مِنَ الدُّنْیَا ، وَفِی یَدِہِ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاہَا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ۔
(مسلم ۱۴۵۔ ابن المبارک ۷۷)
(١٩٦٩١) حضرت ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر میں { سابقوا إلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ } ” یعنی اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ “ (حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ یا تو یہ سورة آل عمران کی آیت تھی یا سورة الحدید کی) ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سن کر ابن قسحم (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا بدلہ ہے جو ان کافروں سے لڑے اور شہید ہوجائے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کا بدلہ جنت ہے۔ ابن قسحم (رض) نے کہا کہ دنیا کے بدلے میں جنت میرے لیے کافی ہے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں، انھوں نے کھجوریں پھینکیں، آگے بڑھے اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔