(۱۹۷۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ مُدْرِکِ بْنِ عَوْفٍ الأَحْمَسِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ إذْ جَائَہُ رَسُولُ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَسَأَلَہُ عُمَرُ عَنِ النَّاسِ ، فَقَالَ : أُصِیبَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَآخَرُونَ لاَ أَعْرِفُہُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَکِنَّ اللَّہَ یَعْرِفُہُمْ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَجُلٌ شَرَی نَفْسَہُ ، فَقَالَ مُدْرِکُ بْنُ عَوْفٍ : ذَلِکَ وَاللَّہِ خَالِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، زَعَمَ النَّاسُ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدِہِ إلَی التَّہْلُکَۃِ ، فَقَالَ عُمَرُ : کَذَبَ أُولَئِکَ وَلَکِنَّہُ مِمَّنَ اشْتَرَی الآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔
(١٩٧٠٢) حضرت مدرک بن عوف احمسی (رض) کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس تھا کہ نعمان بن مقرن (رض) کا قاصد آیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے مجاہدین کی صورت حال پوچھی تو اس نے بتایا کہ فلاں فلاں شخص شہید ہوگئے اور کچھ ایسے لوگ بھی شہید ہوئے جنہیں میں نہیں جانتا۔ اس شخص نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! ایک آدمی ایسا بھی تھا جو خود کو موت کے لیے پیش کررہا تھا۔ اس پر حضرت مدرک بن عوف (رض) نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم وہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔