(۱۹۷۴۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، أَنَّ عَمَّہُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : غِبْت عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاللَّہِ لأَنْ أَرَانِیَ اللَّہُ قِتَالَ الْمُشْرِکِینَ لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ؟ فَلَمَّا کَانَ یَوْمَ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعْتَذِرُ إلَیْک مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ، وَأَبْرَأُ إلَیْک مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِیَہُ سَعْدٌ بأخراہا دون أحد ، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ : أَنَا مَعَک ، قَالَ سَعْدٌ : فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ کَمَا صَنَعَ ، وَوُجِدَ فِیہِ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ ضَرْبَۃً بِسَیْفٍ وَطَعْنَۃً بِرُمْحٍ وَرَمْیَۃً بِسَہْمٍ فَکُنَّا نَقُولُ : فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ نَزَلَتْ : {فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ}؟ (بخاری ۲۸۰۵۔ مسلم ۱۵۱۲)
(١٩٧٤٦) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے چچا کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں پہلی لڑائی میں تو شریک نہ ہوسکا، لیکن اگر اللہ نے مجھے دوبارہ کافروں سے لڑنے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ! پھر غزوہ أحد میں جب مسلمان بکھر گئے تو میرے چچا نے کہا کہ اے اللہ ! میں مسلمانوں کے قتل پر تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور کافروں کے قتل پر برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے تو انھیں احد کے پاس حضرت سعد (رض) ملے۔ حضرت سعد (رض) نے ان سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ جیسی لڑائی انھوں نے کی میں ایسی لڑائی کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ ان کے جسم میں بیس سے زیادہ تلواروں، نیزوں اور تیروں کے نشان تھے۔ ہم ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے : (ترجمہ)” ان میں سے بعض نے تو اپنی منت کو پورا کردیا اور بعض انتظار کر رہے ہیں۔ “ (الاحزاب : ٢٣)