(۱۹۷۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ ، قَالَ : غَارَتْ خَیْلٌ لِلْمُشْرِکَیْنِ عَلَی سَرْحِ الْمَدِینَۃِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَائَ أَبُو قَتَادَۃَ وَقَدْ رَجَّلَ شَعْرَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی لأَرَی شَعْرَک حَبَسَک ؟ فَقَالَ : لآتِیَنَّکَ بِرَجُلٍ سَلَمٍ ، قَالَ : وَکَانُوا یَسْتَحِبُّونَ أَنْ یُوَفِّرُوا شُعُورَہُمْ۔
(١٩٧٧٤) حضرت محمد بن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مشرکین کے گھڑ سواروں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔ حضور (رض) ان کو بھگانے کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت ابو قتادہ (رض) تھوڑی دیر بعد آئے انھوں نے بالوں پر کنگھی کی ہوئی تھی۔ حضور (رض) نے ان سے فرمایا کہ شاید تمہارے بالوں نے تمہیں روکے رکھا۔ انھوں نے عرض کیا کہ میں آٔپ کے پاس ایک آدمی قیدی بنا کر لاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ بالوں کو درست رکھنا پسند کرتے تھے۔