(۱۹۷۷۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُنِیبٍ الْجُرَشِیِّ ، أَنَّ رَجُلاً نَزَلَ عَلَی تَمِیمٍ وَسَافَرَ مَعَہُ فَرَآہُ قَصَرَ فِی السَّفَرِ عَمَّا کَانَ عَلَیْہِ فِی أَہْلِہِ ، فَقَالَ : رَحِمَک اللَّہُ ، أَرَاک قَدْ قَصّرْت عَمَّا کُنْت عَلَیْہِ فِی أَہْلِکَ ؟ فَقَالَ : أَوْ لاَ یَکْفِینِی ، أَنَّ یکون لِی أَجْرَ صَائِمٍ وَقَائِمٍ۔
(١٩٧٧٣) حضرت ابو منیب جرشی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت تمیم داری (رض) کا مہمان بنا اور ان کے ساتھ اللہ کے راستے میں سفر پر نکلا۔ سفر میں نکل کر اس نے اپنے معمول کی عبادت سے کم عبادت کی۔ حضرت تمیم داری (رض) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تم پر رحم فرمائے ! تم نے اپنے معمول سے کم عبادت کیوں کی ؟ اس نے کہا : اس لیے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے کی وجہ سے مجھے دن کو روزہ رکھنے والوں اور رات کو قیام کرنے والوں کے برابر ثواب مل رہا ہے وہ میرے لیے کافی ہے۔